مُحبّت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
بس "امربیل" کی طرح ہوتی ہے، کبھی دھیمے سے دِل کی مُنڈیروں پر چڑھ جاتی ہے تو کبھی چُپکے سے کواڑوں میں اُلجھ جاتی ہے۔ کبھی چاندنی راتوں میں چاند سے شرما جاتی ہے۔
جیسے خانم بیگم کی مُحبّت، چاندی کے پازیب باندھے چھن چھنا چھن قاسم میاں کے دِل کے نہال خانوں میں ناچ رہی تھی
خانم بیگم اُجڑی کوکھ کے غَم میں ساری عُمر اشکبار رہی رہیں مگر قاسم میاں اپنے دِل کے آبگینوں میں انکی مُحبّت کی چاندنی میں سرشار رہے۔
وقت چُپکے چُپکے گُزرتا رہا اور قاسم میاں کے بالوں میں سفیدی اور خانم بیگم کی آنکھوں میں اُداسی بھرتا رہا
ایک آندھی رات خانم بیگم کو اچانک دِل کا دورہ پڑا اور وہ خالقِ حقیقی سے جا مِلیں۔
غَم اشک بن جائے تو دوا ہو جاتا ہے اور اگر دَرد بن جائے تو سوا ہو جاتا ہے۔
قاسم میاں خانم بیگم کی یاد میں ایسے روئے کہ اپنی بینائی ہی کھُو بیٹھے۔
ایک رات خانم بیگم مُحبّت کے مارے نابینا بوڑھے کے خواب میں آ ہی گئیں۔
اماوس کی اُس سیاہ رات میں جب چاند بادلوں کی اوٹ میں نہ تھا، قاسم میاں کے دِل کے نہال خانوں میں مُحبّت کی چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔
خانم بیگم نے پیار سے اپنے ہونٹوں کو قاسم میاں کے اشکوں سے نم کر لیا۔
اور اُن کی نابینا آنکھوں کو مُحبّت سے چُوم لیا۔ پھر دِھیمے سے کہنے لگیں
دیکھو ناں ! مُجھے دیکھنے کے لیے تو تُمہیں بینائی نہیں چاہیے۔
اور سُنو جی۔۔۔۔۔۔۔ تُمہیں پتہ ہے ناں؟؟
وہاں ساری حُوریں بانجھ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری طرح۔۔
اور سارے فرشتے خُدا کی مُحبّت میں اندھے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تُمہاری طرح
No comments:
Post a Comment